نئی دہلی،29جون(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)امریکہ کے الی نوئے کمپنی میکڈونلڈ اور اس کے 50:50شیئر والے جوائنٹ وینچر کناٹ پلازہ ریسٹورینٹس پرائیویٹ لمیٹڈ (سی پی آرایل)کے درمیان چل رہے تناؤ نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے۔سی پی آرایل بورڈ نے ایک غیر متوقع قدم اٹھاتے ہوئے دہلی میں چل رہے 55سے 43میک ڈونلڈز ریستورانوں کو جمعرات سے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔یہ جیوی کمپنی نارتھ اور ایسٹ انڈیا میں میک ڈونلڈز کے اسٹورز کو آپریٹ کرتی ہے۔ملک میں کل 168ریسٹرنٹس آپریٹ کرنے والی سی بی آرایل کے بانی ایم ڈی وکرم بخشی نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے، لیکن جن 43ریستوران کو سی پی آرایل آپریٹ کر رہی تھی، انہیں عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔بخشی اور ان کی بیوی اب بھی سی پی آرایل بورڈ میں ہیں۔سی پی آرایل بورڈ میں میک ڈونلڈز کے دو نمائندے ہیں۔ بند کرنے کا اعلان بدھ کی صبح اسکائپ کے ذریعے ہوئی بورڈ میٹنگ کے دوران لیا گیا۔ریستوران کو عارضی طور پر بند کئے جانے کی وجہ کے بارے میں دونوں شراکت دار نے کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا ہے، لیکن ذرائع کے مطابق، بخشی اور میک ڈونلڈز کے درمیان چل رہی جنگ کے درمیان سی پی آرایل میڈیٹری ہیلتھ لائسنس رنیو کرانے میں ناکام ہو گئی ہے۔اس کے سبب اس کے 1700ملازم بے روزگار ہو جائیں گے۔
اگست 2013میں بخشی کو ڈرامائی انداز میں سی پی آرایل کے منیجنگ ڈائریکٹر پوسٹ سے ہٹا دیا گیا تھا۔اس کے بعد بخشی اور میک ڈونلڈز کے درمیان طویل قانونی جنگ شروع ہو گئی، جس میں انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی فاسٹ فوڈ چینز کو کمپنی لاء بورڈ میں گھسیٹ لیا۔اس معاملے میں بورڈ کا فیصلہ ابھی نہیں آیا ہے۔میک ڈونلڈز لندن کورٹ آف انٹرنیشنل اربٹریشن میں بخشی کے خلاف مقدمہ لڑ رہی ہے۔